عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق،
مقبوضہ فلسطین پر قابض یہودی ریاست کو ایک فوجی اڈہ یا پھر مغرب کا طیارہ بردار جہاز بھی کہا جاتا رہا ہے چنانچہ اس کی کارکردگی صرف عسکری ہے لیکن اس کے باوجود یہ ریاست گذشہ دو عشروں سے اپنے تحفظ سے مسلسل عاجز ہوتی آئی ہے؛ گوکہ جب اسے مغرب کی زیادہ حمایت حاصل کرنا ہو یا اندرونی مسائل سے چھٹکارا پانا ہو تو دھونس دھمکیوں پر اتر آتی ہے؛ چنانچہ کچھ دن پہلے صہیونیوں کی عسکری خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے ضمنی طور پر محور مقاومت میں شامل ممالک، تحریکوں اور تنظیموں کو "وسیع پیمانے پر جنگ" کی دھمکی دی اور کچھ امریکی تشہیری ذرائع نے ایران کے خلاف فوجی اقدام کے لئے امریکہ اور یہودی ریاست کے سمجھوتے کا انکشاف کیا، اور خطے میں بھی بعض ذرائع نے ان اطلاعات کا تجزیہ کرتے ہوئے مذکورہ سمجھوتے کو اہم قرار دیا۔ لیکن صہیونیوں کو ظآہراً چھوٹے منہ سے بڑی بات نکلنے کے المناک نتائج کا اندازہ ہوگیا تھا لہذا صہیونی حکام نے نیا موقف اپنانے ہوئے کہا کہ "ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہيں کہ اگر ہم پر حملہ ہؤا تو دشمن کو فیصلہ کن جواب دے سکیں"۔
صہیونیوں کا یہ نیا موقف کو سابقہ موقف سے پسپائی قرار دیا گیا۔ "اسرائیل نیوز" نامی اخباری ویب گاہ نے گذشتہ جمعرات (25 مئی 2023ع) کو ـ جنوبی لبنان سے اسرائیل کے تاریخی فرار کی یاد میں منعقدہ سالانہ تقریب سے ـ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے خطاب کے بعد لکھا کہ "حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے خفیہ عسکری ادارے کے سربراہ میجر جنرل آہارون ہالیوا کا جواب دے دیا"۔
اس سلسلے میں کچھ نکات قابل توجہ ہیں:
1۔ صہیونیریاست اندرونی لحاظ سے ایسے حالات سے گذر رہی ہے کہ جس سے چھٹکارا پانے کے لئے اس نے محور مقاومت کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران صہیونیوں کی دھمکیاں دو اشکال میں ظہور پذیر ہوئی ہی: غزہ پر جارحیت اور حرکۃ الجہاد الاسلامی کے بعض کمانڈروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کرنا اور "حزب اللہ" کے خلاف بڑی جنگ شروع کرنے کی دھمکی۔
غزہ پر صہیونی جارحیت پانچ دن کے بعد جنگ بندی میں بدل گئی؛ یہودی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دو ہفتہ قبل تین کمانڈروں کو شہید کرنے کے فوراً بعد اعلان کیا کہ غزہ میں صہیونی فوج کا مشن مکمل ہو گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف سے فلسطینی مقاومت بھی دست بستہ نہ رہی اور پانچ روزہ جنگ میں فلسطینی مجاہدین نے صہیونی مراکز اور ٹھکانوں کو تقریبا ڈیڑھ ہزار میزائلوں اور راکٹوں کا نشانہ بنایا؛ اور صہیونی وزیر اعظم ایسے حال میں ثالثوں کے ذریعے جہاد اسلامی اور حماس سے جنگ بندی کی منظوری لے سکا ہے کہ ان دونوں مقاومتی تحریکوں میں کسی قسم کی کمزوری دکھائی نہیں دے رہی تھی اور فلسطینی کی یہ دو تحریکیں صہیونیوں کو دندان شکن جواب دے رہی تھیں؛ اور چونکہ جنگ بندی کے لئے متعینہ فلسطینی فریق کی شرائط پر عمل درآمد نہیں ہؤا تھا چنانچہ صہیونیوں نے اپنی جارحیت کو ایک کامیابی قرار دیا اور یہودی حلقوں میں اپنی مجروح ساکھ کو بہتر بنایا، چنانچہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے ـ جو غزہ پر نیتن یاہو کی جارحیت کی حمایت کر چکے تھے ـ اس جارحیت کو "غزہ کے خلاف نیتن یاہو کی سیاسی جنگ" کا نام دیا۔
نیتن یاہو نے غزہ کے ساتھ جھڑپوں سے نکلنے کے بعد ایک قدم آگے بڑھا کر ـ ضمنی طور پر ـ حزب اللہ لبنان کو بڑی جنگ کی دھمکی دی، لیکن جب اسے محسوس ہؤا کہ حزب اللہ مقابلے کے لئے تیار ہے تو اس نے اپنی بڑھکوں سے پسپائی اختیار کی۔ دوسری طرف سے حزب اللہ نے صہیونی دھمکیوں کے بعد گذشتہ اتوار (28 مئی 2023ع) کو مختلف قسم کے ہتھیاروں کی نمائش کے لئے ایک فوجی مشق کا اہتمام کیا، جن میں کچھ جدید ترین ہتھیار بھی شامل تھے، یہ مشق اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد تھی۔ صہیونی ٹی وی کے چینل 12 نے ـ جو عام طور پر فوجی خبریں نشر کرتا ہے ـ کہا کہ "حزب اللہ لبنان کا فنی (Technological) ارتقاء اسرائیل کی فوجی کمان کی بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بنے گا"۔
منگل 23 مئی 2023ع کو صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے لکھا: "حزب اللہ کی جنگ مشق اسرائیل کے کسی یہودی آبادی والے قصبے پر حملے اور قیدی پکڑنے کی کاروائی سے مماثلت رکھتی تھی کیونکہ اس میں ڈرون طیارے اور موٹر سائیکلوں کو استعمال کیا گیا"۔
جو کچھ صہیونی اہلکاروں اور سیاسی ذرائع کی باتوں سے زیادہ سے زیادہ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ممکن ہے وہ پھر بھی غزہ پر جارحیت کا ارتکاب کریں لیکن حزب اللہ پر حملہ کرنے سے خائف ہیں؛ اور صہیونی فوج کی ناگفتہ بہ صورت حال سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ لڑ سکے گی چہ جائے کہ وہ امریکہ کے تعاون سے ایران پر ـ حتی کہ محدود ـ فوجی اقدام کرنے کی جرات کرے۔
2۔ رہبر انقلاب امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے 16 اپریل (2023ع) کو ملاقات کے لئے آنے والے مسلح افواج کے کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "ہمیں غلطی سے دوچار نہیں ہونا چاہئے، کبھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی غیر اہم طاقت کوئی بات کرتی ہے، کوئی اقدام کرتی ہے اور انسان کا ذہن اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں ان جزوی دشمنیوں میں نہیں الجھنا چاہئے؛ دیکھا چاہئے کہ پس پردہ کون ہے؟ کون ہے جو ان اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے؟ اہم بات یہ ہے۔ ہمارے خطے اور دنیا کے دوسرے خطوں میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے پیچھ بڑی طاقتیں ہیں ۔۔۔ وہ دیکھتی ہیں، منصوبے بناتی ہیں، دیکھتی ہیں کہ اس نقطے پر ایک تنازعے اور لڑائی کی ضرورت ہے ـ اس لئے کہ فلان نقطے پر اس کا فائدہ اٹھائیں اور منافع کمائیں ـ تو جنگ کی آگ بھڑکا دیتی ہیں، اس لئے کہ سے فائدہ اٹھائیں، ان مسائل کی طرف توجہ دینے اور پس پردہ [اسباب و عوامل] کو دیکھنے کی ضرورت ہے"۔
یہودی ریاست سنہ 2006ع میں لبنان پر اپنی 33 روزہ جارحیت (12 جولائی تا 14 اگست) کے آغاز کے دو ہفتے بعد اس تلخ نتیجے پر پہنچی کہ وہ اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتی، چنانچہ اس نے جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن (جارج واکر بش جونیئر کی کابینہ میں) امریکہ کی اس وقت کی سیاہ فام وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس تل ابیب چلی گئی اور اس وقت کے صہیونی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے کہا کہ حزب اللہ کی مکمل شکست تک جنگ بندی سے گریز کرے! [وہ جنگ جاری رکھنے کے لئے 10 دن تک تل ابیب میں ہی قیام پذیر رہی]۔ لبنانی پارلیمان کے سربراہ نبیہ بری (Nabih Berri) کہتے ہیں کہ اسی دورے کے دوران رائس 24 جولائی 2006ع کو بیروت چلی آئی اور لبنانی حکام کو بلایا اور اجلاس کے دوران مجھ سے مخاطب ہو کر کہا: "جنگ کے خاتمے کی شرطیں یہ ہیں: حزب اللہ کی افواج کو غیر مسلح ہونا پڑے گا، انہیں جنوبی لبنان میں لیتانی (Litani) شہر تک، کے شہروں سے باہر جانا پڑے گا۔ اور پھر انتہائی غرور و تکبر سے کہا:
":میں اس وقت تک یہاں سے ہلوں گی نہیں جب تک کہ تم سید حسن نصر اللہ اور حزب اللہ کے درجۂ اول کے راہنماؤں کو میرے حوالے نہیں کروگے، کہ میں انہیں تل ابیب منتقل کروں!"۔ اور میں نے رائس سے کہا: "محترمہ! یہاں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے اور تشریف لے جایئے"۔ [اور جو کچھ ہؤا وہ رائس نے بھی دیکھا اور تاریخ نے بھی]۔
آج کا امریکہ
اب ہم سنہ 2006ع کے لبنانی تجربے کے پیش نظر، آج کے امریکہ کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ 60 سے 70 سال کے عرصے سے امریکہ سے وابستہ رہنے اور اپنے تمام تر وسائل امریکہ کے سپرد کرنے والے ممالک کے حکام کی رائے ہے کہ "امریکہ اس خطے میں اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور فطری طور وہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں ان [وابستہ ممالک] کی مؤثر حمایت نہیں کر سکتا"۔ اس نظریئے کے نتیجے میں، امریکہ سے وابستہ ممالک آج "اپنے آپ کو" ایران، چین اور روس ـ جو رسمی طور پر امریکہ کے دشمن سمجھے جاتے ہیں ـ کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعاون کا آغاز کرتے ہیں، اور حتیٰ کہ شام کے لئے اپنے ملکوں کے دروازے کھول دیتے ہیں، اور امریکہ کی اعلانیہ مخالفت کے باوجود، جدہ کے عرب سربراہی اجلاس میں صدر بشار الاسد کا سرکاری طور پر استقبال کرتے ہیں حالانکہ امریکہ نے گذشتہ ایک عشرے میں اپنے بہت سے منصوبے اس ملک کے انہدام پر مرکوز کئے ہوئے تھے۔ بالکل واضح ہے [کہ ایک طرف سے مغرب اور صہیونی ریاست کی مرضی منوانے کا دور گذر گیا ہے اور دوسری طرف سے] امریکہ اور صہیونی ریاست اس صورت حال سے غضبناک ہیں۔ [اس لئے بھی کہ ان کے کل کے وابستہ ممالک ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس لئے بھی کہ بحیثیت مجموعی، زمانہ ان کے حق میں نہيں ہے]۔
اب اسی صورت حال کے بیچوں بیچ خبر شائع ہوتی ہے کہ "امریکہ اور صہیونی ریاست کے سینئر حکام نے ایران پر مشترکہ حملہ کرنے کے لئے سمجھوتہ منعقد کیا ہے"، اور بعدازاں صہیونی حکام حزب اللہ کو بڑے حملے کی دھمکی دیتے ہیں، تو حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔
دھمکیاں یا بڑھکیں
مورخہ 27 مئی (2023ع) کو جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (Deutsche Welle) نے امریکی اخباری ویب گاہ ایکسیوس (Axios) سے، تین اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا: "جو بائیڈن نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کو ایران کے خلاف مشترکہ عسکری منصوبہ سازی کی تجویز دی ہے اور امریکی حکام نے اس تجویز کو منفرد قرار دیا ہے [جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی]۔ لیکن اسی اثناء میں ایکسیوس نے ہی ایک امریکی سینئر اہلکار، ـ جس نے اپنا فاش نہ ہونے کی شرط پر اس ویب گاہ سے بات چیت کی ہے ـ کے حوالے سے لکھا ہے کہ "بائیڈن کی تجویز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف مشترکہ کاروائی کریں گے!"؛ ادھر ڈوئچے ویلے کا دعویٰ ہے کہ یہ تجویز امریکی وزیر جنگ لائیڈ آسٹن (Lloyd Austin)، امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف مارک ملی (Mark Milley) اور سینٹکام کے سربراہ مائیکل کورلا (Michael Kurilla) نے تل ابیب کے الگ الگ دوروں میں صہیونی حکام کو پہنچائی ہے۔
خلاصہ یہ کہ: جعلی اسرائیلی ریاست نے اب تک متعدد بار اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے کی کوششیں کی ہیں، اور چونکہ اس کی کاروائیوں کا دارومدار اس کے جاسوسوں پر ہے، چنانچہ صہیونیوں کی تخریبی کاروائیوں کا پھر بھی امکان رہے گا لیکن جہاں تک ایران پر ـ انفرادی طور پر یا حتیٰ کہ امریکہ کے ساتھ مل کر ـ براہ راست حملے کا تعلق ہے تو صہیونی اور امریکی سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی حملہ واشنگٹن اور تل ابیب کے مفاد میں نہیں ہے۔
دوسری طرف سے اس منظرنامے کا ایک پہلو ـ جسے صہیو-امریکی بڑھکوں میں نظر انداز کیا ہے ـ ایران کی جوابی کاروائی سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ اس سے پہلے کئی بار صہیونی اور امریکی تجزیہ کاروں اور فوجی مبصرین نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران پر کوئی بھی حملہ اس ملک کے تباہ کن جوابی اقدام کا باعث بنے گا۔ امریکیوں کے پاس عین الاسد کے امریکی اڈے پر ایرانی کے بیلسٹک میزائل حملے کا تجربہ بھی ہے، اور انہیں معلوم ہے کہ ایران کی مٹی پر، یا ایران کی مٹی میں، کسی قسم کا حملہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے شدید ترین رد عمل کا باعث بنتا ہے اور امریکہ کے تمام فوجی اڈے اور ان میں موجودہ نفری کو فوری طور پر، وسیع پیمانے پر شدید جانی اور مالی خاطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈوئچے ویلے اور بعض دوسرے ذرائع کی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی-امریکی دھمکیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی جغرافیائی حدود اور ان حدود میں موجودہ تنصیبات پر حملہ، مراد نہیں ہے۔
اسی اثناء میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی یونٹیں مغربی ایشیا میں طویل عرصے تک تعینات نہیں رہ سکتیں، حالانکہ اس خطے میں امریکی طاقت اس کے فوجی اڈوں کے تحفظ پر منحصر ہے؛ اور امریکہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ نہ تو ـ ایران کی موجودہ پالیسی کی بنا پر ـ ایران کے ساتھ جنگ لڑ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے ان درجنوں ثابت اور سیار (Mobile) فوجی اڈوں کو برقرار رکھ سکتا ہے جو اس نے گذشتہ چھ دہائیوں کے دوران مختلف بہانوں سے قائم کر لئے تھے۔ چنانچہ امریکہ کو اپنا مسئلہ حل کرنے کے لئے تیسرا راستہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے؛ اور یہ راہ حل ایران کے ساتھ "کچھ دو اور کچھ لو" کی بنیاد پر قائم ہے جو آسان ہرگز نہیں ہے؛ کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے تمام بالواسطہ اور بلاواسطہ راستے بند ہیں۔ یہ راہ حل ایک بنیادی سوال کا جواب دینے پر منحصر ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ "کیا خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرنے کی ایرانی پالیسی، ایک تزویراتی حکمت عملی (Strategy) ہے یا یہ صرف ایک تدبیر (Tactic) ہے؟"؛ امریکیوں اور ان کے حواریوں کی دلی خواہش تو یہ ہے کہ ایران کی یہ پالیسی ایک تدبیر (Tactic) ہی ہو، اور ایران نے اسے قطعی نتیجے پر پہنچانے کا منصوبہ نہ بنایا ہو۔
ادھر، اس دلی خواہش و آرزو کی رو سے، ان سب کی رائے یہ ہے کہ ایران کے ساتھ سمجھوتہ کا امکان بہ آسانی دستیاب ہے! لیکن تذبذب میں مبتلا امریکی ایک بار پھر دھونس دھمکی کے دریچے سے میدان میں آئے ہیں اور نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کرنے کی باتیں کرنے لگے ہیں؛ حالانکہ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ "ان دھمکیوں کے پیچھے ایک تمنا پائی جاتی ہے۔
خطے سے امریکہ کا نکال باہر کرنا ایک Tactic نہیں ہے بلکہ یہ ایک بنیادی تزویری حکمت عملی ہے کیونکہ گذشتہ چالیس سالہ عرصے میں امریکہ ایران کے ساتھ محض دشمنی پر مبنی رویہ روا رکھے ہوئے ہے، اور رہبر معظم امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے عراقی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں، ان سے واضح طور پر عراق سے امریکیوں کے اخراج پر زور دیتے رہے ہیں، جیسا کہ رہبر معظم نے مورخہ 29 اپریل [2023ع) کو ملاقات کے لئے آئے ہونے عراقی صدر عبداللطیف رشید سے بات چیت کرتے ہوئے فرمایا: "عراق میں ایک امریکی کی موجودگی بھی حد سے زیادہ ہے"۔
چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے درمیان سمجھوتے کی افواہیں صرف یہ دباؤ ڈآلنے کے لئے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے سے امریکیوں کے اخراج کی اصولی پالیسی پر نظر ثانی کرے، گوکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہوشیار اور بیدار ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ممکن ہے کہ صہیونی اور امریکی خطے میں ایران کی فورسز اور مراکز کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہے ہوں۔ اور ایرانیوں نے بارہا ثابت کرکے دکھایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر یا باہر کسی اور ملک میں، ایرانی شہریوں، میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ اگر ملک کے اندر اور باہر کی ایرانی عمارتوں کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں اور ان پر حملہ ایران پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈآکٹر سعداللہ زارعی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔
110